اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ امریکی حکام ہمیشہ وعدہ خلافی کرتے رہے ہیں اور ابھی بھی عہد شکنی کر رہے ہیں اور مشترکہ جامع ایکشن پلان پرعمل درآمد کے سلسلے میں امریکیوں کارویّہ بہت ہی مایوس کن رہا ہے-
انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دنیا ایرانی عوام کو ایک ایسی قوم کے طور پر جانتی ہے جو دھونس و دھمکی کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے، کہا کہ ایران پوری سنجیدگی کے ساتھ ایٹمی معاہدے پرعمل درآمد کے سلسلے میں اپنے وعدوں پرعمل کر رہاہے اور مقابل فریق کو بھی وعدہ خلافی کرنے کی اجازت نہیں دے گا -
وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کےسلسلے میں مذاکرات ایک ایسے وقت شروع ہوئے تھے جب ہر چند مہینے بعد امریکی کانگریس میں ایران مخالف پابندیوں کا بل پاس کیا جاتا تھا اور یہ بات عام ہو چکی تھی کہ صیہونی حکومت کا وزیراعظم بنیامین نتنیاہو اگر واشنگٹن کا دورہ کرتا ہے تو ایران پر پابندیاں عائد کرانے کے لئے ہی کرتا ہے-
وزیر خارجہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان اسلامی جمہوریہ ایران کے لئےایک بڑی کامیابی ہے، کہا کہ اس سمجھوتے نے ایرانی عوام کی عزت و شرف کا تحفظ کیا، اس سمجھوتے کی بدولت ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کیا گیا اور ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیاں اور قراردادیں ختم ہو گئیں اور اب ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا راستہ بند ہو گیا -
انہوں نے ایران کے میزائلی پروگرام کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے حالیہ بیان کو غیر مربوط قرار دیا اور کہا افسوس کہ بان کی مون نے ماضی میں بھی کوئی بہت ہی اچھا تاثر قائم نہیں کیا ہے اور خاص طور پر سعودی عرب کا نام بچوں کے حقوق پامال کرنے والے ملکوں کی فہرست سے نکالنے پر مبنی ان کے اقدام نے اقوام متحدہ کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔
.......
/169